بنگلورو،12؍جون(ایس او نیوز) سرحدی اضلاع کیلئے مستقل پانی کی سہولت اور آبپاشی کا انتظام لاگو کرنے کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے اور دیگر مطالبات کو لے کر آج بعض کنڑا تنظیموں کی طرف سے منائے گئے کرناٹک بند کا اثر نہ ہونے کے برابر رہا۔ کے ایس آر ٹی سی اور بی ایم ٹی سی بسیں حسب معمول دوڑتی رہیں، اسکول ، کالج اور دفاتر میں کام کاج جاری رہا۔ شہر کے سیٹلائٹ بس اسٹانڈمیں صبح حسب معمول بیرون ریاستوں بشمول تملناڈو سے بس سرویس برابر جاری رہی۔ شہر کے اہم بس اسٹانڈ میجسٹک میں بھی اس بند کا کوئی اثر نہیں دیکھا گیا۔ ہر طرف بسوں کی آمد اور لوگوں کا ہجوم برقرار رہا۔ کنڑا اوکوٹا کے صدر واٹال ناگراج کی قیادت میں حالانکہ ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اس مرحلے میں احتجاجیوں کو پولیس نے ودھان سودھا کا گھیراؤ کرنے کیلئے آگے بڑھنے کی کوشش میں گرفتار کرلیا۔ شہر بھر میں اعلان کے باوجود فلموں کی نمائش کا سلسلہ جاری رہا۔ بازار اور دکانیں حسب معمول کھلی رہیں، اے پی ایم سی میں بھی اناج کی خرید وفروخت بے روک جاری رہی۔ شہر کے مہکری سرکل میں کنڑا رکشنا ویدیکے کے پروین شٹی گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس کے کارندوں کو پولیس نے گرفتار کرکے بعد میں رہا کردیا۔ کولار، رام نگرم اور چکبالاپور اضلاع میں بند کا زبردست ردعمل دیکھا گیا۔یہاں پر دکانیں ، کارو بار ، منڈیاں ، سنیما گھر ، ہوٹل اور پٹرول بنک وغیرہ رضاکارانہ طور پر بند رہے۔ سرکاری دفاتر بھی یہاں بند کرکے بہت کم حاضری کے ساتھ چلائے گئے ۔ کرناٹک بند کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے کل ہی کولار ضلع میں چھٹی کا اعلان کررکھا تھا۔ کے ایس آر ٹی سی ڈپو سے یہاں بسیں نہیں نکلیں۔ ایک آد ھ بس جو یہاں پہنچیں احتجاجیوں نے اس کے ٹائروں سے ہوا نکال دی۔ قومی شاہراہوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ بعض مقامات پر گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیاگیا۔ جس کے سبب معقول پولیس بندوبست کرتے ہوئے کچھ افراد کو گرفتار کیاگیا۔شمالی کرناٹک میں اس بند کا ردعمل ملا جلارہا۔ دھارواڑ ، گدگ، بلگاوی ، باگلکوٹ وغیرہ اضلاع میں صبح کے وقت حالانکہ کچھ دیر کیلئے دکانیں بند رہیں ،لیکن بعد میں حالات معمول پر آگئے۔احتیاطی طورپر پولیس کا بندوبست کیا گیاتھا۔